Pages

Sunday 2 October 2016

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے بانکے

(عتیق بزدار)
حریت کے عالمی استعارے چے گویرا نے کہا تھا کہ اگر آپ کوئی بھی نا انصافی دیکھ کر غصے سے کانپ اٹھتے ہیں تو آپ میرے کامریڈ ہیں۔ کرانتی کاری دلوں میں مؤجزن یہ جذبہ مختلف زمانی و مکانی حالات میں بارہا سر اٹھاتا رہا ہے اور اس کی حالیہ جھلک جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء کی احتجاجی تحریک میں نظر آئی. کامریڈ کنہیا کمار اور کامریڈ شہلا رشید کی زیرِ قیادت اس احتجاجی تحریک نے نہ صرف انڈین سماج کو بھگوے ( Saffron) رنگ میں رنگنے کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے بیانیے کے سامنے سپر باندھا  بلکہ سیفرانائزیشن  کے جہل سمندر میں سیاسی وسماجی شعور کا اک جزیرہ آباد کیا ہے. آج جے این یو انڈیا کا ہائیڈ پارک بن چکا ہے جہاں انڈسڑیلائزیشن کے بغل بچے نیشنلزم، نریندر مودی کےالٹرا رائیٹ ھندوتوا ڈسکورس اور امبانی ٹاٹا کے کیپٹلزم کی کھچڑی سے برآمد ہونے والے کارپوریٹ ہندوازم کے جمہوری و معاشی مینڈیٹ کو جے این یو کے مٹھی بھر  طلباء نے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔
جے این یو انڈیا کی طلباء سیاست کا ایپی سنٹر ہے. دیگر ملکی وغیر ملکی یونیورسٹیوں کے مثل یہ فقط ڈگریاں فروخت کرنے کی منڈی نہیں، بلکہ فکر و شعور بیدار کرنے والی دانش گاہ کے طور سامنے آئی ہے.  1967 میں اندرا گاندھی کے دورِ حکومت میں بنائی گئی یہ درسگاہ اپنے قیام کے چند ہی سالوں میں انڈیا کی صفِ اول کی درسگاہوں میں شمار ہونے لگی. داخلے کا نظام کچھ اس وضع پر استوار کیا گیا کہ علم و دانش کا یہ پلیٹ فارم فقط مین اسٹریم میں پہلے سے ہی موجود متمول لوگوں تک محدود نہ رہے. اور دورافتادہ علاقوں کے غریب طالبعلموں کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں. روزِ اول ہی سے شعوری طور پر ادارے کی فکری منہج ایسے خطوط پر استوار کی گئی کہ سوچ کے دائرے کسی باہر سے مسلط کیے گئے ڈسکورس اور ریاست کے سرکاری بیانیے سے متأثر نہ ہوں. جے این یو کے مضبوط نظریاتی تشخص کی اولیں جھلک تب نظر آئی جب اسی درسگاہ کی بانی اندرا گاندھی نے جے این یو کے طلباء سے خطاب کرنا چاہا مگرطلباء نے انہیں یونیورسٹی حدود میں داخل تک نہ ہونے دیا. طلباء اس امر پہ مُصر تھے کہ اندرا ایمرجنسی کے نفاذ اور دورانِ ایمرجنسی ہونے والے سرکاری جرائم پر قوم سے معافی مانگیں.
سوال کرنے کی صحتمند روایت جے این یو کی فضاء میں رچی بسی ہے. ہوسٹل، میس اور ڈھابوں پر مکالمے اور مباحثے ہوتے ہیں کہ انڈین سماج کی پرداخت کن سماجی اور سیاسی اصولوں پر ہو. گو  جامعہ میں  کمیونسٹ اور سوشلسٹ سوچ کی حامل جماعتوں کا غلبہ رہا ہے مگر کسی بھی نظریئے کو تقدس اور حتمیت کا غلاف چڑھانے کی روایت نہیں. ڈین کی زیرِ سرپرستی قائم جے این یو سٹوڈنٹس یونین کی صورت جے این یو کے طلباء کو ایک ایسا تنظیمی ڈھانچہ میسر ہے جو سیاسی وسماجی شعور اور فکر و تعمق کو جلا بخشتا ہے. جے این یو سٹوڈنٹ یونین  فکری و نظریاتی تنوع کی جیتی جاگتی تصویر ہے. یونین کے صدر کامریڈ کنہیا کمار  آل انڈیاسٹوڈنٹ فیڈریشن سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا طلباء ونگ ہے. نائب صدر کامریڈ شہلا رشید اور جنرل سیکرٹری راما ناگا کا تعلق آل انڈیا سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن سے ہے جو  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ لیننسٹ کا طلباء دھڑا ہے. جوائنٹ سیکرٹری انورابھ شرما اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ کا طلباء دھڑا ہے.  اس سٹوڈنٹ یونین نے جامعہ میں اختلافِ رائے،  آزادئ اظہار اور بوقلمونی ء افکار کی اک نئی طرح ڈالی ہے.  یہاں “باپو” اور بھارت ماتا سے زیادہ بابا صاحب امبید کر،  بھگت سنگھ اور چارو ماجومدار سے عقیدت برتی جاتی ہے. نریندر مودی اور رتن ٹاٹا کی کوئی نہیں سنتا مگر گجرات کے ایک غریب لڑکے کنہیا کمار اور کشمیر کی ایک مسلمان لڑکی شہلا رشید کی فقط ایک کال پر ھندو مسلم، سکرٹ بلاؤز  و شلوار قمیض، باریش و کلین شیو کی تفریق بھلا کر سب لبیک کہتے ہیں.  کسی قسم کی تقدیسوں کی اسیری کو جھٹلاتے ان سچے سجیلے جیالوں کی جرأتیں ریاست کی قوتِ قاہرہ  اور ھندوتوا کے سیفرانائزیشن ایجنڈے کے مقابل ڈٹی ہیں۔
نو فروری 2016 کو جے این یو سٹوڈنٹس یونین نےافضل گرو کی ناحق پھانسی کے خلاف ایک کنوینشن کا انعقاد کیا. حسبِ توقع نازک طبع ریاست کو ان طلباء کے نعرے ناگوارِ خاطر گزرے.1860 کے استعماری قانون کی سیڈیشن کی شق استعمال کرتے ہوئے  جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا گیا.  کنہیا اور ان کے کامریڈز کو جھوٹا دوش دیا گیا کہ انہوں نے اینٹی نیشنل نعرے لگائے. ان گرفتاریوں کا واضح مقصد جے این یو میں ریاستی بیانیے کے خلاف بڑھتی ہوئی فکری مزاحمت کو دبانا تھا. طلباء کی گرفتاریوں نے ایک احتجاجی تحریک کو جنم دیا. جے این یو کے بانکوں نے اپنی آزادی ء اظہار پر مودی سرکار کی اس یلغار کے خلاف ڈٹ جانے کی ٹھان لی. یونیورسٹی کا ہر کونا ہر قریہ انقلاب اور لال سلام کے نعروں سے گونج اٹھا. اساتذہ بھی اپنے ان رشید شاگردوں کی صفوں میں آن شامل ہوئے. ریاست اور یونیورسٹی انتظامیہ ایک طرف اور دوسری جانب علم و آگہی سے منور یہ سچے سجیلے جواں  ڈٹ گئے. صدر کے پابندِ سلاسل ہونے پر سٹوڈنٹ یونین کی نائب صدر شہلا رشید نے احتجاجی تحریک کی باگیں سنبھال لیں۔
سری نگر  کی شعلہ بیاں شہلا رشید کی جوشیلی تقریروں کے شعلہ ء گرمی نژاد نے جے این یو تحریک میں حرارت اور توانائی پھونکی. ریاستی میڈیا کے ارناب گوسوامی جییسے جغادریوں کے بھرپور پراپیگنڈے کے باوجود جے این یو کی آواز دبائی نہ جا سکی.  ریاست کو فکری و نظریاتی مورچے پر شکست یقینی نظر آئی تو ریاستی قوتِ قاہرہ وردی پوش اداروں کی صورت کیمپس میں در آئی. یونیورسٹی کیمپس مثل اک جیل کے لگنے لگا. ایسے میں ایک نہتی لڑکی نے  جاسوسی کیمروں اور بندوقوں کے مہیب سائے تلے ریاستی جبر اور وطنیت کے جھوٹے فسار تلے پلتی ناانصافیوں کے خلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا تو جے این یو کے جیالوں نے اسے مایوس نہیں کیا. 14 فروری کو شہلا کی ایک کال پہ ہزاروں طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس کی جانب مارچ کیا. 18 فروری کو یہ طوفان ٹھاٹیں مارتا جے این یو کی در و دیوار پار کر کے دلی کی سڑکوں پہ اتر آیا.  جلوسوں اور ریلیوں کے علاوہ شہلا نے تحریک کا دانشورانہ مورچہ بھی بخوبی سنبھالا. کامریڈ شہلا کی تقریریں ان کے سیاسی و سماجی شعور کی بلند پروازی کا پتہ دیتی ہیں.جب جب کھوکھلے نیشنلزم کے کرتبی دانشوروں نے آزادی ء افکار پر قدغن لگانا چاہی اور ان پُر عزم جوانوں کی سرکشی ء خیال کو غداری پہ محمول کرنا چاہا. تو شہلا نے ہر فورم پر جے این یو کا مقدمہ لڑا. مذہب کے سیفرانی لبادے میں چھپے سرمایہ داروں، ان کے ہمنوا سیاستدانوں اور چیختے چھنگھاڑتے میڈیائی مداریوں کو سرِ عام بے نقاب کیا۔
میں ظالموں کے خلاف نسلوں کی نفرتیں عام کر کے چھوڑوں گا
میں ساری دنیا میں ان کو بدنام کر کے چھوڑوں گا
سیاسی و سماجی اپج اور ادبی و شعری ذوق  سے مرصع شہلا کی تقریروں میں فیض اور فہمیدہ ریاض کے انقلابی شعروں اور امبیدکر و بھگت سنگھ کی نظریات کی بازگشت سنائی دیتی ہیں. ان کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ نریندر مودی کا الٹرا رائیٹ نیشنلزم انڈین سماج کے لئے نا قابل قبول ہے. کاسٹ سسٹم کی تفریق ہو یا اقلیتوں سے ناروا سلوک، شہلا رشید کنہیا کمار اور ان کے کامریڈز نے جرأتمندی سے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی.
شوریدہ سر شاعر اور فلسفی جون ایلیا ایک جگہ لکھتے ہیں “سوچنا کل بھی جرم تھا اور آج بھی جرم ہے. محسوس کرنے میں کل بھی ضرر تھا اور آج بھی ضرر ہے پس کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ سوچنے اور محسوس کرنے کا یہ شیوہ اس دنیا کی ساخت کے یکسر خلاف ہے”.  جے این یو کے جیالوں کا جرم بھی مروجہ فکر سے ہٹ کر سوچنا اور محسوس کرنا ہے. ان سچے سجیلے جوانوں کے قلوب تپاں سرکشی ء خیال سے معمور ہیں، یہ بانکے جواں ہمہ لمحہ انسان دوستی  کا دم بھرتے ہیں، علم و آگہی سے اپنے نفس کی تطہیر کرتے ہیں،  سماج اور جمہور کے طے شدہ ضابطوں کو ازسرِ نو سوچنے پہ مصر ہیں، ان کے دلوں کی فصیلیں ظفر مند ارادوں سے بھری ہیں، ایسے  لوگ لامحالہ ایک جبری یقین مسلط کرنے والی متشدد کارپوریٹ ریاست کے لیے خطرہ ہیں. جب دادری میں محمد اخلاق گئو ماتا کے ذبیحے کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں بیدردی سے مارا جاتا ہے تو ریاست کا انصاف نہیں جاگتا مگر جے این یو کے بام و سقف آزادی اور انقلاب کے نعروں سے گونجتے ہیں. اڑیسہ میں “ادی واسیوں” کو اس لیے اپنی زمینوں سے بے دخل کیا جاتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں وہاں کھربوں روپے کا بکسائیٹ کھود نکالنا چاہتی ہیں.تب بھی جے این یو بولتا ہے. تعلیمی ادارے غریب طالبعملوں کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جے این یو انہیں آڑے ھاتھوں لیتا ہے. القصہ جے این یو ایک  استبدانہ معاشرے میں مزاحمت کی دیوار بن کر ابھرا ہے. ایک ایسی دیوار جس کے سنگ و خشت افکار کی رنگا رنگی کے باعث بہم ہیں.
جب سے نریندر مودی راج سنگھاسن پہ بیٹھے ہیں انڈین سیکولر ازم کا پرانا بیانیہ کہیں پسِ منظر میں گُھٹ مرا اور اب اطراف و جوانب میں کارپوریٹ ھندو ازم کی بنسی بجتی ہے. منافع کی بڑھوتری کے یک نکاتی ایجنڈے سے عبارت سرمایے کا عالمی نظام اخلاقیات کے آفاقی تصور کی ہمیشہ سے نفی کرتا رہا ہے. ہر چند اس نظام میں ایک طرزِ خاص پہ استوار سرمایہ دارانہ نظم اور معاشی ضوابط کا مبسوط نظام تو موجود ہے مگر ایک معاشرے کی اخلاقی بنیادوں پہ استواری انہیں موافق نہیں. اس نظام میں بدلتے ہوئے حالات میں منافعے کی بڑھوتری کے لیے ایک لچک رکھی گئی ہے. اور دانستہ طور پر عالمگیر تصورِ اخلاقیات سے پہلو تہی برتی گئی ہے کیونکہ آفاقی تصورِ اخلاقیات میں اٹل اقدار و ضوابط موجود ہیں. اور ان اٹل ضوابط کی موجودگی میں سرمایہ دارانہ نظام کو بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ رنگ بدلنے کی لچک میسر نہیں. اسی نظام کی چھتر چھایا تلے گجرات کے خون آشام بھیڑیئے نریندر مودی کو ۲۰۰۵ تک امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ تھی. مگر جب یہ امر مسلم ہو چلا کہ مودی جی ھندوتوا کے بھگوے جھنڈے تلے ڈیڑھ بلین  لوگوں کی تجارتی منڈی کے سربراہ بننے کو ہیں. تو ایسی تمام پابندیاں ہوا میں اڑا دی گئیں.   ۲۰۱۴  میں وہی مودی میڈیسن اسکوائر میں خطاب کرتے پائے جاتے ہیں. کیمروں کی آنکھیں چندھیاتی روشنی میں  باراک اوباما سے بغلگیر ہوتے ہیں. انڈین سماج میں سرمایہ دارانہ مفادات کو فروغ دینے کیلئے جمہوریت کو مذہب کا تڑکا لگایا گیا. نتیجتاً کارپوریٹ ھندوازم اپنی زعفرانی ضو فشانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوا. امبانی ٹاٹا اور دیگر بڑی مچھلیوں نے مودی سرکار کی راہ ہموار کرنے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا. الٹرا رائیٹ سیوکوں نےمودی جی کی الیکشن مہم میں نعرہ لگایا “اگر آپ اصلی ہندو ہیں تو نریندر مودی کو ووٹ دیں. ایسے نعروں اور ان سے وابستہ بیانیے پہ شہلا رشید نے اپنی ایک تقریر میں پاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض کے شعروں سے یوں چوٹ لگائی
تم بالکل ہم جیسے نکلے ،
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار توہارے،
ارے بدھائی بہت بدھائی
پریت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے ؟
سارے الٹے کاج کرو گے ؟
اپنا چمن تاراج کرو گے ؟
تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا ، پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو کون نہیں ہے ، تم بھی کرو گے فتویٰ جاری
سوچنا اور سوال اٹھاناایک صحتمند ذہن کا عملیہ ہے. کامریڈ کنہیا کمار کہتے ہیں
“ہمارا سماج جو کل سوچے گا، جے این یو کو آج اس کی فکر ہے”
“انڈین نیشنلزم کو ایک دھرم یا ایک ذات پہ استوار نہیں کیا جا سکتا”
“ہم سماج میں بہتری کا سنگھرش کررہے ہیں.ہم بھارتی آئین کے عملی نفاذ کی جنگ لڑ رہے ہیں. ہم صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی جنگ لڑ رہے ہیں”
کامریڈ شہلا کہتی ہیں
“ایک قوم کہلانے کیلئے یہ لازمہء تہذیب ہے کہ مکالمے اور مباحثے کی آزادی کو یقینی بنایا جائے. اگر آپ کو عوام کی چنتا ہے تو ان کے سوال اٹھانے کے حق کو محفوظ بنانا ہو گا” “ہم کسی کو جیل بھیجنے کے حق میں نہیں. نہ ہی ان لوگوں کے جو گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو شہید مانتے ہیں نہ ہی ان لوگوں کے جو افضل گورو کو شہید مانتے ہیں. ہر دو قبیل کے لوگوں کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کی آزادی ہونی چاہیے. ہم بھگت سنگھ کے پروگریسو نیشنلزم کو مانتے ہیں اور آر ایس ایس کے بھگوا جھنڈا لہراتے متشدد نیشنلزم کو رد کرتے ہیں۔”
شہلا، کنہیا اور ان کے ساتھیوں کی یہ جرأتِ گفتار اور فکری تگ و تاز مودی سرکار کو ایک آنکھ نہیں بھاتی. بس اسی پاداش کنہیا کمار، عمر خالد، انیربان اور اشتوش کمار کو حراست میں لیا گیا. الزام دیا گیا کہ انہوں نے بھارت مخالف نعرے لگا کر غداری کا ارتکاب کیا. ان کو پس دیوار زنداں بھیجنے کو 1860 کے فرنگی قانون کا سہارا لیا گیا. ریاست کو گمان تھا کہ زندان کی کٹھنائیاں ان آتشیں خیال جوانوں کی آرزوؤں کا خون کر ڈالیں گی. ریاست شاید اس خوش فہمی میں مبتلا  تھی کہ ان سرکردہ رہنماؤں کو پابندِ سلاسل دیکھ کر جے این یو کے بانکے حوصلہ ہار دیں گے مگر
رہیں نہ رند یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
گرفتاریوں نے تحریک کو اک نئی اٹھان دی. ساتھیوں کی رہائی کے لیے طلباء کا طوفان جامعہ کے در و دیوار پار کر کے دلی کی سڑکوں پر امنڈ آیا. ہزاروں طلباء نے شہلا کی قیادت میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا اور ریاست کے آمرانہ رویے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا.   دنیا بھر کے دانشوروں نے انڈین گورنمنٹ کے اس سامراجی اقدام کی سخت لفظوں میں مذمت کی. نامور دانشور ناؤم چومسکی، نوبل لاریٹ اورحان پاموک سمیت دنیا بھر سے نواسی دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں استعماری قانون کے تحت طلباء کی غداری کے الزام میں گرفتاری کو انڈین حکومت کا آمرانہ اقدام قرار دیا. اور استعماری قانون کے  اطلاق پر گہری تشویش کا اظہار کیا. آخر کار دومارچ کو کنہیا اور ان کے ساتھیوں کو عبوری ضمانت پر رہا کر دیا گیا. انقلاب، آزادی اور لال سلام کے نعروں کی گونج میں کامریڈ کنہیا اور ساتھیوں کا والہانہ استقبال کیا گیا. پورا جے این یو کچھ یوں نعرہ زن ہوا
کامریڈ کنہیا کو لال سلام لال سلام
کامریڈ عمر کو لال سلام لال سلام
ہم لے کے رہیں آزادی
فاسی واد (فاشزم) سے آزادی
سنگھ واد سے آزادی
جو تم نہ دو گے
تو لڑ کے لیں گے آزادی
او لال و لال و لال سلام
پورے جے این یو کو لال سلام

Friday 19 August 2016

ایک کوہ پیما کا سندیسہ محبت

عتیق بزدار
سطحِ سمندر سے سولہ ہزار فٹ بلند اور ستتر مربع کلومیٹر پر محیط ‘سنو لیک’ عام جھیلوں کے کینڈے کی جھیل نہیں بلکہ جھیل کے عمومی تصور سے ماہیت اور وسعت، دونوں اعتبار سے قدرے مختلف ہے. یہ ناپیدا کنارجھیل قراقرم کے بدن پر خلط ملط ہوتے بیافو اور ہسپر گلیشیر کے بیچوں بیچوں برف کا ایک بے انت سمندر ہے. شاید تخیلِ ڈارون سے بھی قبل کے زمانوں میں بیافو Biafo اور ہسپر Hispar کے باکرہ برفیلے بدن ٹکرائے ہوں اور اُن کے اتصال نے اس نقرئی جھیل کو جنم دیا ہو جس کا حسن اس کی وسعت اور  آنکھیں چندھیا دینے والی لشک سے عبارت ہے. مثرگاں چاہے جتنی کھلیں اس کی وسعت کا احاطہ کرنے سے قاصر رہتی ہیں کہ یہ پولر ریجن سے باہر دنیا کا سب سے طویل برفانی بیسن ہے. مارٹن کان وے پہلا بدیسی سیاح تھا جس نے۱۸۹۲ میں سنو لیک کے برفیلے بدن پہ قدم رکھا. تاحدِ نگاہ برفیلی وسعتوں کو دیکھ کر مارٹن نے کہا ” دنیا بھر کی سیاحت میں ایسا سحر انگیز برفانی نظارہ ان آنکھوں کو پہلے کبھی نصیب ہوا تھا نہ آئندہ کبھی ممکن ہے”. اسی مارٹن نے ہی پہلی بار اس برفانی ویرانے کے لئے “سنو لیک’ کا نام استعمال کیا. وگرنہ  مقامی بولی میں  اسے “لکپے لاء”  کہتے ہیں.
محبوب کی زُلفِ دوتا کی طرح بل کھاتی سکردو سے ایک جیپ روڈ وادی ء شگر کے مٹیالے پہاڑوں اور بیچ کہستان نمودار ہونے والے ہائی آلٹی چیوڈ Altitude ریگزاروں سے گزر کر آخری انسانی آبادی “اسکولے” گاؤں جاتی ہے. سطوت اور جمال کے پیکر قراقرم کے مقدسکہستانی سلسلوں کی سیر دیکھنی ہو یا آکاش کو چومتی شاہ گوری K2) (اور اس کی ہمسائی چوٹیوں کو سر کرنا ہو اسکولےکی چوکھٹ چومنا لازمہء سیر بینی ہے.سکردو سے اسکولے کی سڑک بھی ایک دلچسپ سفری تجربہ ہے.  ابتلائے سفر سے مفر نہیں مگر ساتھ میں ہزار رنگ ہمسفر رہتے ہیں. پہاڑی ڈھلانوں سے چپکے لہلہاتےکھیت جو کہیں سبز کہیں گلابی ہو جاتے ہیں. یکبارگی یہ کھیت ناپید ہو جاتے ہیں تو کچھ دیر تکلامکان اور گوبی جیسا صحرا رفیقِ سفر رہتا ہے. صحرا ساتھ چھوڑتا ہے تو جلترنگ سماں چو طرف نمایاں ہوتا ہے. گہرائی میں گدلے پانیوں کا دریا. کناروں پر ڈھلان در ڈھلان کھیت اور دور برفپوش پربتوں کے برفیلے بدنوں پہ ڈورے ڈالتی آہوئے فلک کی شرارتی کرنیں.  اور رنگ کی اس بارش میں بھیگتی پھرپھرر کرتی سکردو کی سخت جان نیلی پیلی جیپیں گھومتی پھرتی ہیں. تارڑ صاحب ان جیپوں کو کوہ پیماؤں کی نخریلی بلیاں لکھتے ہیں مگر ہمیں سمجھ نہ آئی کہ اسکولے روڈ پہ سفرِ مسلسل کا کرب جھیلنے میں نخرا کہاں ہے. اسکولے کی چوکھٹ پہئیے کے پھیر کا اتمام ہے اور اس کے بعد کے رستے سہارنا “کارِ موٹر” نہیں. گر آگے کا قصد ہے تو پاؤں کے بل جانا ہے. اسکولےسے کچھ آگے چل کر سنو لیک کا رستہ کے ٹو اوربلتورو کے رستے سے مفارقت لیتا ہے اور شمال مغرب میں بیافو کی سمت مُڑ جاتاہے.
بیافو سب جانتے ہیں کہ بازیچہء اطفال ہرگز نہیں. اسکولے گاؤں سے چار کلومیٹر پرے بیافو کا برف سمندر شروع ہوتا ہے جو بیالیس میل تک قراقرم کے رگ و پے میں سرایت کرتا ہے. اسکولے سے نکلتے ہی پتھروں میں سر دھنتے پُر شور برالڈو دریا کا خرام کوہ نوردوں کو سلامی دیتا ہے. آگے ایک بنجر ویران میدان آتا ہے جسے مقامی لوگ قیصر کا پولو گراؤنڈ کہتے ہیں.  اس کے بیچوں بیچ کوہ نوردوں کے پیروں سے “کُوٹا” ہوا رستہ ہے جو آگے بلتورو جاتا ہے اور بایاں طرف بیافو کی پگڈنڈی مڑتی ہے. ایک درہ نما پہاڑی کے پار گلیشرز کا باوا آدم بیافو شروع ہوتا ہے. جو آگے ہیسپر سے مل کر پولر ریجن سے باہر دنیا کا طویل ترین پہاڑی راستہ ترتیب دیتا ہے. یہی راستہ بلتستان کو نگر سے ملاتا ہے. اور اس راستے کے کناروں پر “لاٹوک” Latok کی فلک شگاف چوٹیاں پہرہ دیتی ہیں. راستہ طویل اور کٹھن ہے مگر سنولیک جیسی محبوبہ نے وصال کے لئے “انہی راستوں پہ چل کے آنے” کی فرمائش لازم رکھی ہے.
اسکولے سے “نملا” قریب چھ سات گھنٹے کا رستہ ہے. طویل برف زار ہے جس کے سفید بدن میں لاتعداد پتھر اور سنگریزے پیوست ہیں. پتھروں پہ چلنا بھی عجب صعوبت ہے “گوڈے گِٹے”ہر بار اِک نئے زاوئیے پہ وزن سہارتے ہیں. اور ہر قدم پہ  ایک ٹیس جسم کے مضراب پہ درد کی نئی لَے چھیڑتی ہے. “نملا’ نام تو پہلی سماعت پر کسی سیمیں بدن زہد شکن حسینہ کا معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتاً چند جھاڑیوں، ایک ندی اور زمین کے چھوٹے سے ہموار ٹکڑے پر مشتمل ایک کیمپ سائیٹ ہے. نملا دیوی کے  رن چھو کے نکلو تو آگے کا رستہ برفانی دراڑوں crevasses سے پِٹا پڑا ہے جو کہ گرم سرد موسموں میں گلیشئرز کی انگڑائیوں سے پیدا ہوتی ہیں. اُس کے پار شمال میں  لاٹوک ٹاور Latoke نظر آتے ہیں. لاٹوک اول7145 میٹر، لاٹوک دوئم  میٹر7108  اور لاٹوک سوئم6959  میٹر بلند ہے. جنوب میں بخورداس Bakhor Das کی ۔مخروطی چوٹی اِک شاہانہ تمکنت سے براجمان ہے
نملا سے اگلا پڑاؤ 5355 میٹر بلند ‘ مانگو براک’ کے سائے تلے ایستادہ مانگو کیمپ سائیٹ ہے. ‘مانگو’ برف زاروں کے بیچوں بیچ گھاس کا اِک ہرا سمندر ہے جہاں یاک چرتے نظر آتے ہیں. چرواہے اپنے مویشی یہاں چرنے کو چھوڑ کر آگے “پنما”   Panmah  کو چلے جاتے ہیں.  قریب ہی ‘مانگو براک’ سے اترتی سنگِ راہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی  دی بہتی ہے. اور مانگو جھیل کے نام سے ایک مختصر شفاف جھیل تھوڑی بلندی پر واقع ہے.  
مانگو سے “بینتھا” کیمپ سائیٹ کا سفر چار سے چھ گھنٹے پر محیط ہے. یہ کیمپ سائیٹ سطح سمندر سے 4020 میٹر بلند ہے. سن ۱۸۹۲ میں مارٹن کانوے Martin Conway) نے یہاں قیام کیا تھا اور اُس نسبت سے اسے ‘کانوے کیمپ” بھی کہا جاتا ہے. کیمپ سائیٹ سے کچھ فاصلے پر ‘بینتھا لکپر’ گلیشئر واقع ہے جو لٹوک کی پر ہیبت اونچائیوں سے اترتا ہے. مذکورہ گلیشیر سے محتاط فاصلہ رکھتے ہوئے کامریڈ لوگ آگے بڑھتے ہیں.  بینتھا سے آگے کے رستے کا آغاز تو اچھا ہے. چند مختصر جھیلیں اور بید کی چند جھاڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں. مگر پھر رستہ پرانی ڈگر پہ لوٹ آتا وہی پتھر وہی برفانی دراڑیں اور ان کے ستم گزیدہ کوہ نوردوں کے مظلوم پاؤں. بیافو پہاڑوں میں ایستادہ برفانی اژدھے کی طرح بل کھاتا رہتا ہے جنوب میں “سوکھا درہ”  ہے. سرائیکی میں لفظ “سوکھا” آسان کے معنوں میں مستعمل ہے. لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے. سوکھا درہ درحقیقت سرائیکی والا “اوکھا” درہ ہے.  سوکھا درہ پہلی بار ٹِل مین Tilman نے 1937 میں عبور کیا. یاد رہے کہ یہ وہی ٹل مین ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دوبار دیومالائی برفانی انسان “یے ٹی” Yeti کو سنو لیک کے برف زار میں چہل قدمی کرتےدیکھا اور ایک میل تک اُسکا تعاقب کیا. اُس کے ہمسفر نیپالی شرپا نے یے ٹی کے نقشِ پا دیکھ کر کہا کہ یہ نشان مارخور کھانے والے بڑے یے ٹی سے قطعاً نہیں ملتے اور آدم خور چھوٹے یےٹی سے ملتے ہیں. اس پر ٹل مین نے کہا ازبسکہ یہاں انسانوں کا گزر برسہا برس سے نہیں ہوا تو طوالتِ قحط الرجال کے سبب یے ٹی کی بھوک زوروں پر ہو گی.
بینتھا سے چلو تو ایک دو گھنٹے  بعد خطِ جادہ کچھ ہموار ہوتا ہے. تسکینِ خاطر کو بدن دریدہ مسافر پر فطرت کچھ مہربان ہوتی ہے اور برفانی دراڑوں سے آخر کار خلاصی ملتی ہے. آگے سنو لیک تک کے راستے کو مقامی پورٹر ازراہِ تفنن “موٹروے” کہتے ہیں. اگلا پڑاؤ مارفو غورو کا ہے. مقامی زبان میں “مارفو” سُرخ” اور “غورو” چٹانی علاقے کو کہا جاتا ہے. یہاں سفید گلیشیرز کے بلوریں بدن پر ہمسائے پہاڑوں کی شکست و ریخت سے آن گرنے والے پتھر پیوست ہو جاتے ہیں. لطافت اور کثافت کا اک ملاپ ہوتا ہے نتیجتاً برف کی سفید ردا پہ سرخ و سفید فطرتی کشیدہ کاری کے نمونے نمودار ہوتے ہیں. بس ایسا ہی ایک سنگلاخ نمونہ مارفو غورو ہے. یہاں پہنچ کر بھی گائیڈ ہنوز سنو لیک دور است کی صدا لگاتا ہے. مسافر “سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی” کی تحریک پہ چلتا ہے. برف کے عجائب کدے کا پینڈا مزید ماپو تو تبسمِ گلیشیر سے چھوٹی چھوٹی نیلگوں جھیلیں نمایاں ہوتی ہیں. سماں بدلتا ہے، مارفوغورو کا سُرخ منظر “کارفو غورو” کی بھوری چٹانوں میں تبدیل ہوتا ہے.  خطِ جادہ کی تنگی کو فراخ ملتا ہے  کارفو غورو میں کیمپ سائیٹ کے گردا گرد وسیع برف زار ہے. قریب قریب کوئی پہاڑی ہے نہ ہی آدم خور برفانی دراڑیں. کامریڈ لوگ اپنے لال پیلے خیموں کی طنابیں گاڑتے ہیں امید کرتے ہیں کہ کارفوغوور کی آخری کہستانی چوکھٹ چوم لی ہے تو سپنوں کی راجکماری “سنو لیک” سے معانقہ اب دائرہ ء ممکنات میں ہے.
دلِ من مسافرِ من! لمبا جو ابتلاء کا سفر  وہ ختم ہونے کو ہے.اب شادمانی کا لمحہ ہے ، شاد کامی کا سمے ہے.  پسِ منظر کچھ پستہ قامت پہاڑیاں ہیں اور سامنے سنو لیک برف کی تہہ در تہہ رداؤں میں ملفوف پڑی ہے. آہوئے زریں کی کرنیں سنو لیک کے روئے تاباں سے ٹکرا کے آتی ہیں تو ہمسفر کامریڈوں کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں. جھیلوں کی خوبصورتی کا مروجہ پیمانہ کار فرما ہو تو یہ کرومبر اور رتی گلی جیسی جھیل ہرگز نہیں کہ یہاں پانی ہی مفقود ہے. یہاں تو فطرت کی تونگری برف کی بہتات میں متصور ہو چکی ہے. ایک ریگزار ہے جس میں ریت نہیں برف ہے. ایک گلزار ہے جس میں لالہ و گُل نہیں برف ہے. برف ہے جو بے انتہا ہے اور بے پایاں ہے. آنکھ تھک کر لوٹ آتی ہے وسعت کو مگر اتمام نہیں.بلا شبہ یہ دنیا کی تمام جھیلوں سے منفرد جھیل ہے.زمین ایک طرف آکاش کی نیلی سب جھیلیں بھی اس کے سامنے پانی بھرتی نظر آتی ہیں.  نظر جو جنوب مشرق کو جائے تو “سم گانگ” کا گلیشیر اترتا نظر آتا ہے جو نیچے آ کے بیافو سے بغل گیر ہوتا ہے. مشرق کو درہ “لکپے لاء” ہے جہاں سے کرہ ء ارض کے بلند ترین گاؤں شمشال کا رستہ نکلتا ہے.  شمال مغرب میں “ہیسپر لاء” ہے جس کے پار “ھنزہ نگر” دیس ہے. شمالی سمت سب دروں سے پُر خطر درہ “خوردوپن لاء” جہاں جانے کا خطرہ جیف ہوبن (Jeff Hobin) جیسے  جفا کش اور ماہر  کوہ پیما ہی لے سکتے ہیں. اگلی بار جو چلے تو کامریڈ لوگ بھی جیف ہوبن کے نقشِ پا پر چلیں گے اور خوردوپن لاء کی کٹھنائیوں کے پار اتریں گے.
بھلے وقتوں میں اقبالِ لہوری کارِ آشیاں بندی کو ذلت کہہ گزرے ہیں. یار لوگ شاید انہی کی باتوں کی تحریک پرکوہ و بیاباں میں گزر اوقات کو آساں سمجھ بیٹھتے ہیں. اب انہیں کون بتلائے کہ قراقرم سینہ کاوی مانگتا ہے اور قدم قدم پہ گلیشیر منہ کھولے بندہ نگلنے کو تیار بیٹھے ہیں. پتھریلے برفیلے رستے جسم و جاں کو فگار کرنے کے منتظر ہیں. القصہ، بلائیں بہت ہیں مگر رستے راہی کھینچ ہی لیتے ہیں. ان راستوں کی نبض آوارہ مزاجوں کے دم سے چلتی ہے. کوئی راہ نورد نہ ہو تو راستے بھی زمانوں کی دھول تلے دم توڑ دیتے ہیں. شاید ان راستوں کی زندگی مقصود ہوتی ہے یا شاید سنو لیک جیسی محبوبہ کا روئے تاباں دیکھنے کا چاؤ، ہر سال چند البیلے راہی یہاں کا قصد ضرور کرتے ہیں. ِ جادہ جتنا بھی درپے آزار ہو.  سر ہتھیلی پہ رکھے سرمستوں کی تمنا کی وسعت کا مقابل ٹھہر نہیں پاتا.

“قافلے ریت ہوئے دشتِ جنوں میں کتنے
پھر بھی آوارہ مزاجوں کا سفر جاری ہے”

Wednesday 1 June 2016

صالح ظافر سے روایت ہے


سلطنتِ انگلیشیہ کے دارالخلافے لندن میں وزیرِ اعظم کا آپر یشن کرنے والے عیسائی ڈاکٹر نے بتایا کہ آپریشن سے ایک روز قبل انہیں خواب میں ایک بابے کی زیارت ہوئی جن کی خشخشی داڑھی میں دہن سے ٹپکنے والے حلیم کے قطرے موتیوں کی طرح پرؤے ہوئے تھے. بابے نے تاکید کی کہ تمہیں قدرت نے بہت بڑی سعادت کے لیے چُن لیا ہے اور تم کل ایک ایسے شخص کے پریشاں قلب کی شریانیں سلجھاؤ گے جس کے اخلاقِ عالیہ کے سبب موسم اپنے تیور بدلتے ہیں. جس کی آمد پہ سموم صباء کی سی ہو جاتی ہے اور بدمزاج ہوائی بگولے دھیمی دھیمی پون بن جاتے ہیں. پس تم پر لازم ہے کہ آپریشن سے پہلے کسی جاوید چودھری سے طہارت کے اطوار اور وضو کے فرائض سمجھ لو. جراہی کے آلات تھامنے سے پہلے اور اس معتبر ہستی کے جسم کو چھونے سے پہلے تمہارا با وضو ہونا لازم ہے.
فرنگی ڈاکٹر نے بتایا اگلے روز جیسے ہی آپریشن شروع ہوا آپریشن تھیٹر کی کھڑکی سے نسیم بحری نے اٹکھیلیاں شروع کر دیں. ہم نے احتیاطاً کھڑکیوں کے پٹ بھیڑ دئیے. جیسے ہی سینہ چاک کیا گیا باہر گھنگھور گھٹائیں چھا گئیں. خلیج بنگال کی مون سون اپنا ازلی رستہ چھوڑ کے لندن کو دوڑی چلی آئی. باہر سے اندر آئی نرس نے بتایا کہ باہر ہسپتال کے لان میں دھنک رنگ تتلیاں اتر رہی ہیں.سائبیریا کی کونجیں ڈار در ڈار ہسپتال کا طواف کر رہی ہیں. پھر کیا دیکھتا ہوں کہ مریض کا سینہ چاک ہے مگر رخ ِ انور کی تابانی بڑھتی جا رہی ہے اور مسکراہٹیں بکھرتی جا رہی ہیں. غیبی مدد کے طفیل طبیبوں کے ہاتھ کسی خودکار روبوٹ کی طرح چلے اور گرافٹنگ چند لمحوں میں مکمل ہو گئی. 
جب کامیاب آپریشن کی خبر انٹنیشنل میڈیا نے بریک کی تو وال سٹریٹ کے اقتصادی اعشاریے چند لمحوں میں بعد از گریٹ ڈپریشن سے اب تک کے ریکارڈ توڑ گئے. شام سے ابو بکر بغدادی اور قندھار سے ھیبت اللّہ اخونزادہ نے نواز شریف کے ھاتھ پر بیعت کا اعلان کر دیا. پیوٹن اور اوباما تمام سرکاری اور نجی سرگرمیاں ترک کر کے پھول منڈی سے گلاب کی پتیاں خریدنے دوڑ گئے. امریکی کانگریس کا اجلاس اس لیے مؤخر کرنا پڑا کہ اکثر کانگریس مین مبارک دینے کے لیے پی آئی اے کی ٹکٹ کرا بیٹھے تھے. چینی صدر جو کہ جوگنگ کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے نواز شریف کی صحتیابی کا سن کر سائیکل دوڑاتے ہوئے خنجراب پاس کے رستے رائیونڈ آن اُترے. پشاور کے مولانا پوپلزئی نے یہ خبر سن کر کہا کہ اب چاند دیکھنے کی ضرورت ہے نہ شہادتوں کی. اب ہر روز عید اور ہر رات شبِ برات ہے. خورشید ندیم نے کہا کہ مادے اور روح کی ثنویت اب باطل ہو گئی کہ دونوں کے ادغام سے نواز کو جو دوام ملا ہے یہ جمہور اور معاشرت کے افق پر اک نئے روحیتی ڈسکورس کی نمود ہے. سلیم صافی نے کہا کہ افغان لویا جرگہ جو پانچ صد سالہ پختون ولی کوڈ پر غور کر رہا تھا اس خبر کے بعد رائیونڈ کے پنجابی کو اپنا امیر بنانے پر متفق ہو گیا. مزید برآں آئی سی آئی جے نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے نا ھنجار نمائندوں نے جو بے پرکی اڑائی تھی اس سے ہم مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں.
ظفر قابل بھائی نے اطلاع کی ہے کہ کل شب ھنگامی صورتحال کے باعث مادام تساؤ کے میوزیم کو مقفل کرنا پڑا کہ گاندھی، کینیڈی ، اور امیتابھ کے مجسمے بھی میاں صاحب کی تیمارداری کو جانے پر بضد تھے. 
سپورٹس کے میدان سے خبر آئی ہے کہ ڈی جی براوو نے کہا ہے کہ "نواز شریف اِز آ چیمپین اینڈ آئی ایم نو مور". کرس گیل اور سمنز نے بھی گلدستے اور فلائنگ کسز بھیجی ہیں. 
قصہ کوتاہ چہار دانگ عالم سے عقیدت مندوں کے ٹولے رائیونڈ کو روانہ ہو گئے ہیں. جاتی امراء کے باہر ارادتمندوں کی منڈلی جمع ہورہی ہے. عامر لیاقت دعا کرا رہے ہیں اور ہر آنکھ خوشی سے زار زار ہے.